جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے۔
ایک ہاتھی روز ندی پر جاتے ہوئے درزی کی دکان کے پاس سے گزرتا تھا۔ درزی اسے پیار سے کچھ نہ کچھ کھانے کو دیتا تھا۔
ایک دن درزی کا موڈ خراب تھا۔ جب ہاتھی نے اپنی سونڈ اندر بڑھائی تو درزی نے اس میں سوئی چبھو دی۔
ہاتھی کو بہت غصہ آیا۔ وہ ندی پر گیا اور اپنی سونڈ میں گندا، کیچڑ والا پانی بھر کر واپس آیا۔
ہاتھی نے سارا گندا پانی درزی کی دکان میں پھینک دیا، جس سے اس کے نئے کپڑے خراب ہو گئے۔ برائی کا انجام برا ہوتا ہے۔